imran khan on coronavirus 271

وزیراعظم کی صحافیوں سے ملاقات پر شکوے و تجزیے

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے پاکستان کے نامور صحافیوں سے ملاقات کی جس میں مختلف موضوعات پر دلچسپ بات چیت ہوئی۔

وزیراعظم عمران خان سے روف کلاسرا، ارشاد بھٹی، محمدمالک اور ندیم ملک نے میڈیا کی آزادی، معیشت سے متعلق سوالات کیے، عادل عباسی، امبر شمشی اور سعدیہ افضل نے کورونا وائرس کی صورتحال، پالیسی اور حکمت عملی پر سوالات کیے۔

وزیراعظم عمران خان کی صحافیوں سے ملاقات کے بعد سوشل میڈیا پر تبصرے شروع ہوگئے، تحریک انصاف کے حمایتوں کو سخت غصہ تھا کہ وزیراعظم نے صحافیوں کے سوالات کیوں سنے یا انہیں بھرپور جواب کیوں نہیں دیا۔

تحریک انصاف کے کچھ رہنماوں کی جانب سے وزیراعظم عمران خان کو جب اس بات پر سراہا گیا کہ کیسے انہوں نے ماضی کے حکمرانوں کے مقابلے میں سوالات کے جواب دیئے ہیں، اس پر کچھ لوگوں کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ وزیراعظم کیلئے ایک ٹف پریس کانفرنس تھی، وہ آئندہ شاہد صحافیوں کو اس طرح سوالات کرنے کا موقع ہی نہ دیا یا اس طرح کے سخت سوالات کرنے والے صحافیوں کو مدعو ہی نہ کیا جائے۔

اس ملاقات کے دوران اور بعد میں جو مختلف چیز نظرآئی وہ یہ تھی کہ جنگ گروپ کے تمام صحافی میر شکیل الرحمان کی گرفتاری پر وزیراعظم عمران خان پر برہم رہے، ان پر تنقید کرتے رہے اور ان کا موقف تھا کہ انہوں نے چونکہ میر شکیل الرحمان کی گرفتاری سے متعلق سوال کا جواب نہیں دیا اسلیے انہیں نیب نے نہیں بلکہ وزیراعظم نے گرفتار کرایا ہے۔

یاد رہے کہ پریس کانفرنس میں جب میر شکیل الرحمان سے متعلق سوال کیا گیا تو وزیراعظم نے کہا کہ کورونا وائرس کے معاملے پر بات کریں ورنہ یہ پریس کانفرنس ختم کردیتا ہوں۔

جنگ گروپ کے صحافیوں کے جواب میں دنیا نیوز کے نمائندہ خصوصی عدیل وڑائچ نے اس حوالے سے کہا کہ جتنی تنقیدی عمران خان نے آج سنے ہیں اتنے تو نوازشریف اور ان کے ہمنوااپوزیشن میں بیٹھ کر بھی نہیں سنتے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں