captain karnal sher khan 360

وہ پاکستانی افسر جس کی بہادری کی تعریف دشمن نے بھی کی

اسلام آباد: پاک فوج کے افسر اور جوان کیسے بہادری سے دشمن کا مقابلہ کرتے ہیں، اس کی مختلف کہانیاں سامنے آتی ہی رہتی ہیں لیکن ایک ایسا افسر بھی تھا جس کی بہادری کی تعریف دشمن نے بھی کی۔

1999 میں کارگل کے محاز پر پاکستانی فوج نے پانچ مقامات پر قبضہ کرلیا، جسے چھڑانے کی ذمہ داری آٹھ سکھ رجمنٹ کو دیا گیا لیکن وہ اس کام میں ناکام رہی۔

بعد میں بھارت نے اضافی فوج لگائی جس کے بعد بھارت یہ قبضہ چھڑانے میں کامیاب رہا۔

بھارتی فوج فتح کا ابھی جشن ہی نہیں منا رہی تھی کہ پاکستانی فوج کے ایک افسر کی قیادت میں پھر حملہ کردیا گیا جس سے بھارت کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ اسی لڑائی کے دوران ایک بھارتی فوجی نے اچانک برسٹ مارا جس سے پاکستانی افسر شہید ہوگیا۔

بھارت نے اس حملے میں شہید ہونے والے باقی پاکستانی فوجیوں کو وہیں دفنا دیا لیکن اس افسر کی لاش کو پہلے سری نگر اور پھر دہلی لے گئے۔ جب ان کی لاش دہلی روانہ کی گئی تو بھارتی بریگیڈئیر نے ان کے یونیفارم میں ایک پرچی ڈالی جس پر لکھا کہ این ایل آئی کے کپیٹن کرنل شیر خان انتہائی بہادری سے لڑے، انہیں ان کا حق دیا جانا چاہیے۔

بھارت نے کرنل شیر خان کی لاش بعد میں پاکستان کے حوالے کردی، انہیں ان کی بہادری کے اعتراف میں پاکستانی فوج کا سب سے بڑا اعزاز نشان حیدر سے نوازا گیا۔

خیبرپختونخوا کے گاوں نواکلی کے رہنے والے کرنل شیر خان کی شہادت کے بعد ان کے گاوں کا نام بھی ان کے نام کے ساتھ تبدیل کردیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں