Hope 270

پاکستانی ٹرینرز کی مفت نشست میں بحران کے دنوں میں امید کی باتیں

محمد ذیشان اعوان:
کہاجاتا ہے کہ گھوڑا گھاس سے دوستی کرلے گا تو کھائے گا کیا؟ اسی تناطر میں موٹیویشنل اسپیکرز اور ٹرینرز کی بات کی جائے تو یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے باتوں سے لوگوں کی زندگیاں بدلنی ہیں اور یہی ان کا ذریعہ معاش ہے۔ اسی لیے بڑے بڑے ناموں کی خدمات صرف بڑی کمپنیاں اور بااثر طبقہ ہی حاصل کرسکتا ہے،چونکہ ان کی ہر ایک بات قیمتی ہوتی ہے اس لیے یہ گھنٹوں میں قیمت بھی اچھی وصول کرتے ہیں لیکن یہ اپنے الفاظ سے انسانوں کے آنسو پونچھنے والے اور اپنے جملوں سے ان کے درد میں کمی لانے والوں کو ایک مختلف نشست میں دیکھا۔
کورونا وائرس نے ہرشخص کو متاثر کیا ہے اور بالخصوص وہ طبقہ بہت زیادہ متاثر ہوا ہے جو پہلے ہی غربت کی چکی میں پس رہا ہے، ایسے لوگوں کی فوری مدد کی فراہمی کیلئے پاکستان میں قرضہ حسن کا شاندار پراجیکٹ متعارف کرانے والے ڈاکٹر امجد ثاقب نے یہاں بھی خود کو پیش کیا، تو ان کے اس نیک کام میں ہاتھ بٹانے کیلئے یہ ٹرینرز اور موٹیویشنل بھی اکٹھے ہوگئے۔ مشہوراسپیکر ز عارف انیس ملک اور قیصر عباس نے اپنے جیسے ہر شخص کو HOPE-A-THON کے فورم پر ان کی طرح اب ایک ادارے کی حیثیت رکھتا ہے۔
سب سے پہلے اخوت کے بانی ڈاکٹر امجد ثاقب نے اخوت کا مختصر تعارف کرایا جس کے دوران بتایا کہ انہوں نے بہت چھوٹی سطح سے اس کام کا آغاز کیا، ابتدا میں لوگوں نے بہت مذاق بھی اڑایا (مکمل تفصیلات کیلئے ان کی شاندار کتاب ” اخوت کی کہانی”ضرورپڑھیں) لیکن اب یہ عالمی سطح پر ثابت شدہ سچ ہے، ہاروڈ اور آکسفورڈ جیسی یونیورسٹیوں میں بطور کیس سٹڈی پڑھایا جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ ہمارے موقف کی تائید ہے کہ قرضہ حسن کو آج دنیا تسلیم کررہی ہے کہ فرانس، امریکہ اور یورپ کے کئی ممالک بغیر سود کے قرض دینے کی پالیسی اپنا چکے ہیں۔
ڈاکٹر امجد ثاقب نے کہا کہ اب تک ان کا ادارہ 110 ارب روپے قرض حسنہ کی صورت میں دے جاچکا ہے جس کی واپسی کی شرح 99.9 فیصد ہے۔
کورونا وائرس کے بحران میں ان کا مقصد تین ملین سفید پوش لوگوں کی اس انداز میں مدد کرنی ہے جو ان کے ادارے کا خاصہ ہے کہ نہ تشہیر کرنی ہے اور نہ ہی کسی کی عزت نفس کو ٹھیس پہنچانی ہے۔

قربانی اوپرکے طبقے سے لیں، عامرقریشی

سیشن کے آغاز میں کوڈ 19 کے معاشی پہلووں سے متعلق آسٹریلیا سے عامر قریشی نے گفتگو کی جس میں ان کا کہنا تھا کہ پہلے یہ صحت کے شعبے کا بحران تھا جو اب معیشت کا بن گیا ہے۔ چھوٹی کمپنیوں سے لے کر امیر ممالک تک سب ہی اس سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یاد رکھیں کہ اچھا وقت پھر آئے گا، ہاں اس سے نکلنے کیلئے اپنے اخراجات پر نظرثانی کریں تاکہ کچھ گنجائش نکلے، اپنے بزنس ماڈل پر غور کریں اور اگر کہیں قربانی لینی ہے تو اس کا آغاز ایگزیکٹوز سے کریں ،آخر میں انہوں نے کہا کہ دنیا اب سوچ رہی ہے کہ مینو فیچرینگ کے چین کے علاوہ بھی مراکز ہونے چاہیئں اور پاکستان اس موقع سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔

جہاں شکر ہو وہاں شکایت نہیں ہوتی،قیصرعباس

قیصرعباس نے گفتگو کا آغاز ہی بڑی جاندا ردلیل سے کیا کہ یہ مشکل وقت ہے اور اس میں امید آپ کیلئے گیس کے سلنڈر کی حیثیت رکھتی ہے کیونکہ ہار کی سوچ سے نجات پانا بہت مشکل ہوتا ہے۔ اب یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم اسے اپنے لیے مسئلہ بناتے ہیں یا موقع۔ انہوں نے بار بار ہارنے والوں سے متعلق تین اہم نکات بتائے کہ وہ سوچتے کیا ہیں۔ 1: یہ مسئلہ ہمیشہ رہے گا(اس مسئلے کو اپنے لیے مستقل سمجھ لیتے ہیں) 2: اب تو بس ساری زندگی تباہ ہوگئی ( کوشش کرنے کا کوئی فائدہ نہیں)3: یہ حادثہ یا واقعہ صرف میرے ساتھ ہوا ہے اور ایسا میرے گناہوں کی وجہ سے ہوا ہے۔
انہوں نے نوجوانوں کو اہم مشورہ دیا کہ منفی خیالات سے جان چھڑانے کیلئے خود کو مصروف رکھیں، شکر کی عادت کو اپنا لیں کیونکہ جہاں شکر ہوتا ہے وہاں شکایات نہیں آتیں۔ ۔ پانی میں گرنے سے کوئی نہیں ڈوبتا بلکہ ڈوبتا وہ ہے جو وہیں پڑا رہتا ہے۔

خواتین خود کو تیارکریں،آگے بہت مواقع ہیں، عندلیب عباس

عندلیب عباس نے اپنی گفتگو میں کہا کہ لیڈرمشکل حالات میں ہی پیدا ہوتے ہیں۔ عام لوگوں کے برعکس لیڈر اندھیرے میں امید کی کرن دیکھتا ہے۔ اس میں غیرمقبول فیصلے لینے اور تنقید برداشت کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ انہوں نے خواتین کے حوالے سے کہا کہ یہ بحران ان کیلئے نئے مواقع لائے گا کہ کمپنیاں پہلی بار گھروں سے کام کرانے کے بارے میں سنجیدگی سے سوچیں گی جس کا سب سے زیادہ فائدہ خواتین کوہوگا اس لیے انہیں اس موقع سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کیلئے خود کو بہتر طریقے سےتیار کرنا چاہیے۔
میرٹ از ٹیلنڈ اس لیے ینگ لیڈرز دنیا بھر میں ابھر کر سامنے آرہے ہیں۔ اس بحران میں ابنارمل ہی نارمل ہے۔

کامیابی بڑے گھروں میں رہنا نہیں بلکہ زیادہ دلوں میں رہنا ہے،کامران رضوی

کامران رضوی کا کہنا تھا کہ لیڈرشپ ایکشن کا نام ہے کسی پوزیشن یا عہدے کا نہیں۔ جسم، دماغ اور روح پر سرمایہ کاری کریں گے تو اس کے اچھے نتائج برآمد ہوں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایمان ہوگا تو امید ہوگی کیونکہ ناامیدی تو حقیقت سے انکار ہے، کفر ہے۔
انہوں نے دلچسپ بات کی اور کہا کہ اگر آپ اچھا کما رہے ہیں اور بڑے گھر میں رہ رہے ہیں تو کامیاب نہیں بلکہ کامیابی یہ ہے کہ اس اچھا کمانے کی وجہ سے زیادہ دلوں میں رہتے ہیں۔ جو اللہ نے آپ کو دیا ہے اسے آگے بڑھائیں۔

مرنا ایک دن ہے،باقی دن تو جی لیں، میکس بابری

میکس بابری نے کہا کہ جب آپ ان چیزوں کے بارے میں زیادہ پریشان رہیں گے یاسوچیں گے جن پر آپ کا کنٹرول نہیں ہے تو آپ بے چین رہیں گے۔ یہ طے ہے کہ ہم نے ایک دن مرنا ہے لیکن پھر ہمیں باقی دن تو جینا چاہیے۔ اگر انسان اپنا وقت مثبت سرگرمیوں پر خرچ کرے تو اس کے پاس منفی سوچوں اور کاموں کیلئے وقت ہی نہیں بچتا۔ جینا عزت کے ساتھ سیکھیں کیونکہ اس دولت کا کیا کرنا جو آپ نے اپنی روح کو زخمی کرکے حاصل کی ہو۔
انہوں نے معاشرے کی خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ یہ کام کرنے والے کو “کمی” اور نکمے کو چوہدری کہتا ہے۔
انہوں نے مشورہ دیا کہ اگر انسان خود کو کمزور سمجھے گا تو وہ اپنی غلطی پر معافی نہیں مانگ سکے گا ، اس لیے بلاوجہ کی Ego مت پالیں ورنہ وہ آپ کو وہ زندگی نہیں جینے دے گی جو آپ کو جینی چاہیے یا جو آپ کا حق ہے۔

کمپنیاں چلاتے تو مینجرزہیں،مشکل وقت میں لیڈر کی ضرورت ہوتی ہے،نسیم ظفر

نسیم ظفر نے اہم نقطہ اٹھایا کہ عام حالات میں کسی بھی کمپنی کو چلانے کیلئے مینجرز کی ضرورت ہوتی ہے لیکن مشکل حالات میں لیڈر کی ضرورت ہوتی ہے۔ اللہ کا اس امتحان میں ہمیں ڈالنے کا مقصد یہ ہے کہ ہم ایک بار رک کر اپنی ترجیحات کا جائزہ لے سکیں۔
ان کا کہنا تھا کہ انسان کو اللہ پرایمان اور خود پر بھروسہ رکھنا چاہیے، آگے بڑھنے کیلئے وننگ رویے کا اظہار کرنا چاہیے اور ایمانداری سے موجودہ حالات کاتجزیہ کرکے مستقبل کی منصوبہ بندی کرنی چاہیے۔
انہوں نے گفتگو کے اختتام پر کہا کہ اللہ نے ہمیں دماغ بھرنے کی ذمہ داری دی ہے جبکہ ہمارا پیٹ بھرنے کی ذمہ داری اس نے اپنے پاس رکھی ہے۔

اگر کچھ کرنا چاہتے ہیں تو کل کیلئے بھی کچھ کریں، راحیلہ نریجو

راحیلہ نریجو نے زندگی میں فیصلے کرنے کی جرات پر گفتگو کی اور کہا کہ جب چوائس آئے کہ اس مشکل کے ساتھ ہی رہنا ہے یا نئے راستے کا انتخاب کرنا ہے تو نئے راستے کا انتخاب کریں، یہ پہلے والے سے مختلف ہوگا اور ہوسکتا ہے آسان اور انعام والا بھی ہو۔
انہوں نے کہا کہ انسان اگر وہی کرے گا جو آج کررہا ہے تو کل اسے ملے گا بھی وہی جو آج مل رہا ہے۔

اللہ ناراض نہیں ہوتا کیونکہ ناراضگی تو بے بسی کااظہار ہے،ڈاکٹرصداقت علی

ڈاکٹرصداقت علی کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس 10 ہزار میں سے دو لوگوں کو متاثر کرتا ہے، ہمیں احتیاط کرنی ہے کہ دس ہزار لوگوں میں سے ہم یہ دو لوگ نہ ہوں۔ اس کیلئے انہوں نے وقت مدافعت بڑھانے والی خوراک اور ایکسرسائز کو زندگی کا لازمی جزو بنانے کا مشورہ بھی دیا۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اللہ کسی ایک کی سزا سب کو نہیں دیتا اور نہ وہ ناراض ہوتا ہے کیونکہ ناراضگی تو بے بسی کا اظہار ہے۔

اظفر احسن نے چند روز قبل وفات پانے والے بھارتی اداکار عرفان خان کی اس بات سے گفتگو کا آغاز کیا کہ زندگی چھوٹی نہیں ہوتی لوگ جینا دیر سے شروع کرتے ہیں، جب لوگ جینا شروع کرتے ہیں تو لوٹنے کا وقت قریب آجاتا ہے۔

خود کو مختلف سجھنے کی خوش فہمی ہرگزنہ پالیں،سدرہ اقبال

سدرہ اقبال نے گفتگو میں تین نکات بیان کیے اور کہا کہ یہ تھری مائنڈسیٹ اپنے آپ سے دشمنی ہے۔ اپنے آپ سے کڑھنا(دوسروں سے جیلس ہونا) یعنی ایک کیک ہے اور اگر اس کا زیادہ حصہ دوسروں نے لے لیا تو آپ کے حصے میں کیا آئے گا ، اپنے آپ کو دوسروں سے کمتر سمجھنا کیونکہ ایسے انسان اپنے آپ کو دوسروں سے پیچھے دھکیل دیتا ہے۔ اور خود کو مختلف سمجھنا کہ میرے جیسا کوئی نہیں،میں ہی سب سے اچھا ہوں، انسان جب یہ خوش فہمی پال لے تو زندگی میں یہ کچھ کرنے ہی نہیں دیتی۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر زندگی میں کوئی کام کرنے کیلئے آپ کے پاس ایک سے زیادہ وجہ ہے تو اس کا مطلب ہے کہ آپ حقیقت میں خود کو قائل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
انہوں نے اچھی زندگی گزارانے کے تین گُر بھی بتائے۔ 1: اپنا معیار بڑھائیں ( نئی چیزیں سیکھیں) 2: آپ جتنا زیادہ دیں گے اتنا زیادہ ضرب کھا کر واپس آئے گا ،3: کام رفتار کے ساتھ کریں تاکہ ناکام بھی ہونا ہے تو جلدی ہوں تاکہ آپ کوئی اور کام کرسکیں۔

سیکھنا کا موقع اکثربحران میں ہی ملتا ہے،ولی زاہد

امریکہ میں موجود ولی زاہد کا کہنا تھا کہ اپنے لیے وہ سکلز اپنائیں جو مستقبل میں آپ کے کام آئیں۔ ٹیکنالوجی وقت کی ضرورت ہے اس کا بہتر اور جدید استعمال سیکھیں۔ زیادہ سیکھنے کا وقت بحران میں ہی ملتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہرشخص کو جو اللہ بنانا چاہتا ہے اس میں ایسی خصوصیات موجود ہوتی ہیں، انسان کو کوشش کرنی چاہیے کہ انہیں پہچان کر اس پر کام کرے۔

ذلت اور ناکامی کو وقت سے پہلے خود پر مت سوار کریں،سہیل زندانی

سہیل زندانی نے سیشن کے اختتام پر پرجوش انداز میں مختصر سے گفتگو کی اور کہا کہ جرات بے وقوفی نہیں کیونکہ آنکھیں بند کرکے گہری کھائی میں چھلانگ لگادیں بلکہ اپنے مقصد میں واضح ہونا بہادری ہے۔ انہوں نے کہا کہ امیدکا مترداف غرور ہے اور یہ مت سمجھیں کہ غلطی کی اجازت نہیں ہوتی، بالکل ہوتی ہے کیونکہ انسان انہی سے سیکھتا ہے۔
انہوں نے مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ ذلت اور ناکامی کو خود پر پہلے سے مت سوار کریں ورنہ یہ لمحہ اذیت ناک بنا دیں گی۔ اور آخر میں ان کا کہنا تھا کہ دنیا کسی کے حساب سے نہیں ہوتی، آپ کے حساب سے بھی نہیں ہوگی لیکن آپ بس یہ دیکھ لیں کہ کیا آپ اپنے حساب سے ہیں؟
اس فورم پر دس بارہ منٹ تک گفتگو کرنے والا ہر شخص اہم تھا، اس کے پاس بہت ساری مصروفیات بھی ہوں گے لیکن انہیں چھوڑ کر اس نے یہاں شرکت کی اور وہ سب کچھ مفت بتایا جو وہ پیسے لے کر بتاتے ہیں۔ یہ ڈاکٹر امجد ثاقب کی ساکھ اور ان سب کی نیک نیتی کا نیتجہ ہی تھا کہ صرف چارگھنٹوں میں 80 لاکھ روپے اکٹھے ہوئے۔
اس پورے سیشن کے دوران سوشل میڈیا پر بھرپور انداز میں تبصرے ہوتے رہے، مختلف لوگوں نے خیالات پر اپنے جذبات کا اظہار کیا اور ملین سمائلز کے رضا کار مسلسل سرگرم رہے۔
نوٹ: ہر شخص کا تعارف اس لیے نہیں کرایا تاکہ آپ خود ان کے بارے میں ریسرچ کریں، پڑھیں اور سنیں کیونکہ کیا پتہ کس کے الفاظ سے آپ کی ترجیحات بدل جائیں، آپ کی سمت درست ہوجائے اور سب سے بڑھ کر آپ کو اپنی زندگی کے مقصد کی تلاش کی جستجو لگ جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں