Davos20 WEA2020 34

پاکستان کسی جنگ کا حصہ نہیں بنے گا، عمران خان

ڈیوس: وزیراعظم عمران خان نے ایک بار پھر عالمی دنیا کے سامنے دہرایا ہے کہ پاکستان کسی جنگ کا حصہ نہیں ہوگا۔

ڈیوس میں عالمی اقتصادی فورم کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ پاکستان نے افغان جنگ میں حصہ لیا اور پھر روس کے چلے جانے کے بعد ملک کو بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

ان کا کہنا تھا کہ معاشرے میں مسلح گروپ ہوں تو ملک ترقی نہیں کرسکتا، نائن الیون کے بعد پاکستان کو خطرناک ملک قرار دیا گیا جس سے ملک کا نقصان ہوا ہے۔

عمران خان نے واضح کیا ہے کہ جب حکومت میں آیا تو فیصلہ کیا کہ پاکستان کسی جنگ کا حصہ نہیں بنے گا بلکہ اپنے مسائل حل کرے گا۔
افغانستان میں امن کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں، افغانستان میں قیام امن کے لیے پاکستان ہر ممکن تعاون کررہاہے، امن سے سب کا فائدہ ہوگا۔ عمران خان نے اس حوالے سے افغان حکومت اور طالبان کو بھی مل کر بیٹھنے کا مشورہ دیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں فوج نے دہشتگردوں کے خلاف آپریشن سے امن قائم کیا، خطے میں مکمل امن کے لیے ضروری ہے کہ افغانستان میں بھی امن ہو۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان سیاحت کے حوالے سے بہترین ملک ہے اور ہم اس حوالے سے سرمایہ کاری کررہے ہیں تاکہ اس کی زیادہ سے زیادہ حوصلہ افزائی ہو۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں دس ارب درخت لگانے کا اعلان کیا اور اس تجربے کیلے خیبر پختونخوا کو استعمال کیا۔ آلودگی سے بچنے اور ماحول کیلئے درخت ملک کیلئے بہت ضرورت ہے۔

وزیراعظم نے معاشی حالات سے متعلق کہا کہ عوامی ردعمل کے باوجود سخت فیصلے کیے ہیں، معیشت میں استحکام آرہا ہے جس کے وقت کے ساتھ عوام کو ہی فائدہ ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں