wuhan city china 26

چین بچ گیا ہم نہیں بچیں گے

(ذیشان اعوان ) چین نے ہوبے کے دارالحکومت وہان کیلئے اپنے سارے وسائل جھونکے، پورے ملک کا میڈیکل عملہ یہاں منتقل کیا جس نے دن رات کام کیا، یہاں تک کہ وہ چھ چھ گھنٹوں کی شفٹ میں باتھ روم تک نہ گئے، ہفتوں تک عملے نے خود کو ہسپتال میں ہی قید رکھا۔

ایک طرف یہ سوچ تھی کہ ہسپتال سے جا کر کہیں کسی کو متاثر نہ کرنے دیں تو دوسری طرف گھروالوں، بچوں کی یاد کے باوجود یہ زیادہ ضروری سمجھا کہ شاہد ہم کسی بیمار کی کوئی مدد کرسکیں، کوئی ایک جان بچا سکیں۔

عوام نے شدید مشکلات کے باوجود حکومت سے تعاون کیا، لوگوں نے ڈونیشز کیں، جنہیں آگے لوگوں نے خود متاثرہ لوگوں تک پہنچایا، کورئیر کمپنیوں نے باقی تمام سروسز بند کردیں، خود کو صرف میڈیکل سامنے کی ترسیل تک محدود کردیا۔

انہوں نے ہر وہ فیصلہ جلدی سے کیا جس کی ضرورت تھی جس سے ابتدا میں ہونے والی تاخیر کا بھی انہوں نے ازالہ کیا۔

چین تو اس سے نکل گیا کیونکہ اس نے دل جمعی سے مقابلہ کیا، اس کا ہر شخص وائرس سے اپنی صلاحیت اور ذمہ داری کے مطابق لڑا۔

ہمارے ہاں تو ابھی بیماری سے لڑنے کا چیلنج ہے جہاں حکومت اور اپوزیشن سیاست کررہے ہیں جس کی وجہ سے یکسو ہو کر فیصلے نہیں کیے جارہے، ہم مل کر بیماری سے لڑنے کے بجائے اب بھی آپس میں لڑ رہے ہیں۔ وہ سیاسی کارکنان جواس مشکل وقت میں معاشرے میں کوئی کردار ادا کرسکتے ہیں وہ سوشل میڈیا پر اپنے نمبر ٹانگ رہے ہیں۔

حکومت ڈاکٹروں کو ابتدائی ضروری سامان تک فراہم نہیں کرسکی، مذہبی طبقے کو اپنی ذمہ داری کا احساس نہیں ہے، عوام تعاون کرنے کو تیار نہیں ہیں کہ حکومتوں کی اپیلوں کے باوجود اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ متاثرہ افراد ہسپتالوں سے فرار ہورہے ہیں، انہیں نہ اپنی زندگی کا احساس ہے اور نہ ہی اس بات کا احسا س ہے کہ وہ یہ کام کرکے دوسروں کی زندگیاں خطرے میں ڈال رہے ہیں۔

اس وائرس اور پھر اسے پھیلنے سے بچنے کیلئے لاک ڈاون کے اپنے اثرات ہوں گے جو یہ ختم ہوگا تو نظر آئیں گے، ایک طرف حکومتی مشکلات میں اضافہ ہوگا تو دوسری طرف عام آدمی کیلئے زندگی کی گاڑی کو کھینچنا مزید دشوار ہوجائے گا۔

اب ہمارے جیسے ممالک سمیت خطرہ یہ ہے کہ یہ وائرس تو شاہد چند ماہ میں ختم ہوجائے لیکن اس کے معاشی اثرات تباہ کن ہوں گے۔ عالمی معیشت بیٹھ جائے گی، ہزاروں کمپنیاں بند ہوں گی جس کے نیتجے میں لاکھوں لوگ بے روزگار ہوں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں