coronavirus 26

کورونا وائرس اور ہمارا قومی رویہ

(سارہ شرافت) پاکستان سمیت دنیا بھر کو اس وقت ایک بحران اور وبا کا سامنا ہے جس کا نام کورونا وائرس ہے، اس سے بچاو کیلئے حکومتیں اپنی صلاحیت اور وسائل کے مطابق کام کررہی ہیں لیکن سوشل میڈیا پر کچھ ایسی ویڈیوز اور پوسٹیں گردش کررہی ہیں جنہیں دیکھ کر دکھ ہوتا ہے کہ کیا یہ حکومت اپنے لیے ایسا کررہی ہے؟کیا ان اقدامات کا مقصد ہماری زندگیاں بچانا نہیں؟

ایک طبقہ تو ایسا بھی ہے جو بیماری کے وجود یا حفاظتی اقدامات سے مکمل انکاری ہے کہ جب سے ہوگا تو دیکھا جائے گا، ابھی اس کیلئے خود کو کیوں تکلیف میں ڈالیں، لیکن کل کو بیماری سے متاثر ہوگئے تو کیا ہم ذمہ داری خود لیں گے بلکہ تب ہم نے یہ کہنا ہے کہ یہ حکومت کی نااہلی ہے، اگر ہم انفرادی طور پر اپنا کردار ادا کرنے کو تیار نہیں ہیں تو اجتماعی طور پر اس سے کیسے محفوظ رہ سکتے ہیں؟ اگر ہم خود کچھ نہیں کرسکتے تو کیا ہمیں حکومت سے کچھ نہ کرنے پر شکوے کا حق ہے؟

یہ وقت سیاسی یا تفرقے کی بنیاد پر تقسیم کا نہیں ہے اور نہ آپس میں الجھنے کا ہے بلکہ اپنے حصے کا کردارادا کرنے کا ہے، اگر حکومت کسی کی مدد نہیں کرپارہی تو ہمیں مل کر وہ کام کرنے کی کوشش کرنی چاہیے کیونکہ کسی کی بھی مشکلات باتوں سے نہیں بلکہ کاموں سے کم ہوں گی۔

اگر ہم اتنا بھی کرنے کو تیار نہیں تو کم از کم ہمیں احتیاطی تدابیر کے معاملے میں تو حکومت سے تعاون کرنا چاہیے کہ ہم بلاوجہ باہر نہ نکلیں، غیر ضروری طور پر سفر نہ کریں کیونکہ اس وقت احتیاط سے آپ نہ صرف خود کو محفوظ بنا رہے ہیں بلکہ اس سے دوسروں کی زندگیاں بھی بچارہے ہیں۔ یہ ہمارا احتیاط کرنا ہی دراصل دوسروں کی مدد کرنا ہے۔

ہمارے پاس ابھی وقت ہے اور فیصلہ کرنا ہے کہ ہم نے چین کی طرح بروقت سیکھنا ہے یا اٹلی اورایران کی غلطیاں دہرا کر ان کی طرح نقصان اٹھانا ہے؟

(سارہ شرافت بی بی اے کی طالبعلم ہیں، وہ معاشرے میں تبدیلی کیلئے انفرادی کردار کو انتہائی اہمیت کا حامل سمجھتی ہیں۔ڈیجٹیل دارا کیلئے یہ مضمون انہوں نے خصوصی طور پر تحریر کیا ہے)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں